جکارتہ میں پاکستان کی دھوم: ٹیک شعبے کے 11 بین الاقوامی اعزازات

چھ اکتوبر کی شام انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں ہونے والی ایک تقریب نے پاکستان کے ٹیکنالوجی شعبے کو ایشیا بھر میں سرخرو کر دیا۔ ایشیا اوشیانا کمپیوٹنگ انڈسٹری آرگنائزیشن (ایسیو سیو) کے ڈیجیٹل اور اے آئی ایوارڈز 2026 میں پاکستانی تنظیموں نے گیارہ مختلف کیٹیگریز میں اعزاز حاصل کیے۔ یہ کوئی معمولی خبر نہیں — چھبیس معیشتوں کی ٹیک تنظیموں کے مقابلے میں پاکستان کی یہ کامیابی اس بات کی دلیل ہے کہ ملک کا ڈیجیٹل ایکوسسٹم اب محض صلاحیت کا قصہ نہیں، بلکہ تسلیم شدہ حقیقت بنتا جا رہا ہے۔

یہ ایوارڈز ہیں کیا؟

ایسیو سیو (ASOCIO) ایشیا اور اوشیانا خطے کی آئی سی ٹی انڈسٹری ایسوسی ایشنز کی فیڈریشن ہے۔ اس کے سالانہ ایوارڈز کا مقصد ڈیجیٹل انوویشن، تکنیکی ترقی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کو سراہنا ہے۔ اس سال تقریب جکارتہ کے سوئس ہوٹل پیک ایونیو میں منعقد ہوئی، جہاں پورے خطے کی ٹیکنالوجی تنظیمیں ایک ہی چھت تلے جمع تھیں۔

پاکستانی وفد کی قیادت پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پاشا) کے چیئرمین ڈاکٹر شعیب اے خان نے کی، ان کے ہمراہ پاشا کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن اور ایسیو سیو کے وائس چیئرمین محمد ذہیب خان اور پاشا کے منیجر اسپیشل انیشی ایٹیوز زین طارق بھی تھے۔ ڈاکٹر خان نے اس کامیابی کو پاکستان کے آئی ٹی شعبے کے لیے ایک بڑا سنگ میل قرار دیا۔

کن تنظیموں نے کیا جیتا؟

ایوارڈز کی فہرست خود ایک کہانی سناتی ہے۔ پاکستانی تنظیموں کو جن شعبوں میں اعزاز ملا، وہ محض سوفٹ ویئر ڈویلپمنٹ تک محدود نہیں:

ڈیجیٹل حکومت: خیبر پختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (KPITB) نے ڈیجیٹل گورنمنٹ ایوارڈ جیتا — یہ اس بات کی پہچان ہے کہ صوبائی سطح پر حکومتی خدمات کو ڈیجیٹل بنانے کی کوششیں بین الاقوامی سطح پر دیکھی جا رہی ہیں۔

ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ: REMIRE کو ٹیلنٹ کی تربیت کے شعبے میں اعزاز ملا — اس شعبے میں سرمایہ کاری دراصل ملک کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔

عالمی بزنس سروسز: سمٹری گروپ لمیٹڈ کو گلوبل بزنس سروس ایوارڈ ملا، جو پاکستانی کمپنیوں کی بین الاقوامی منڈیوں میں موجودگی کی علامت ہے۔

مصنوعی ذہانت کے اطلاقات: سب سے دلچسپ حصہ اے آئی کی کیٹیگریز ہیں، جہاں پاکستانی تنظیموں نے چھ مختلف شعبوں میں کامیابی حاصل کی:

  • سائبر سیکیورٹی میں اے آئی: SECUREBEANS
  • عوامی بھلائی کے لیے اے آئی: PlanetBeyond Pakistan
  • تعلیم میں اے آئی: سینٹر فار ایڈوانسڈ ریسرچ ان انجینئرنگ (CARE)
  • صحت میں اے آئی: DxVision AI
  • ذہین زراعت میں اے آئی: Sybrid Private Limited
  • مالیاتی خدمات میں اے آئی: Unikrew Solutions
  • افرادی قوت اور مستقبل کی مہارتوں میں اے آئی: Geekinn
  • مینوفیکچرنگ اور سپلائی چین میں اے آئی: SMART IS

اس فہرست کو غور سے دیکھیں: تعلیم، صحت، زراعت، مالیاتی خدمات، مینوفیکچرنگ۔ یہ وہ شعبے ہیں جو عام پاکستانی کی روزمرہ زندگی کو براہ راست چھوتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کی اے آئی صلاحیت محض کانفرنسوں کی سلائیڈز تک محدود نہیں — وہ عملی مسائل کے حل میں اتر رہی ہے۔

متحدہ عرب امارات کو آئی ٹی برآمدات میں 42 فیصد اضافہ

اسی ہفتے ایک اور حوصلہ افزا خبر سامنے آئی۔ مالی سال 2025-26 میں متحدہ عرب امارات کو پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 42 فیصد بڑھ کر 536 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ پچھلے مالی سال یہ رقم 376 ملین ڈالر تھی۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل خدمات کے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

اس پس منظر میں پاکستان اپنی مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کی نمائش "اے آئی ایوری تھنگ گلوبل 2026" میں کر رہا ہے — ایک بڑا عوامی نجی اجتماع جس میں ستر ممالک کے پانچ سو سے زائد نمائش کنندگان اور ڈیڑھ سو سرمایہ کار شریک ہیں۔ پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (PSEB) کے زیراہتمام قائم پاکستان پیویلین میں پانچ پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیاں اے آئی ڈیٹا انٹیلی جنس، اے آئی سرویلنس، اے آئی سیلز سلوشنز اور سوورین اے آئی جیسے حل پیش کر رہی ہیں۔

پیویلین کا افتتاح متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر شفقت علی خان نے کیا۔ انہوں نے عالمی اے آئی منظرنامے میں پاکستان کی موجودگی مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ نوجوان نسل کو جدید اے آئی، کوڈنگ اور ڈیجیٹل مہارتوں سے لیس کرنا وقت کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل کے لیے تیار افرادی قوت بن سکے اور عالمی ڈیجیٹل معیشت میں پاکستان کی مسابقتی صلاحیت بہتر ہو۔

نوجوانوں کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟

یہ خبریں محض سرخیاں نہیں۔ ہر ایوارڈ اور برآمدی ڈالر کے پیچھے ڈویلپرز، ڈیزائنرز، ڈیٹا سائنسدان اور فری لانسرز کی محنت ہے — اور ان میں سے بیشتر نوجوان ہیں۔ پاکستانی نوجوانوں کے لیے یہ تین سبق اہم ہیں:

پہلا: عالمی منڈی پاکستانی ٹیلنٹ کو پہچان رہی ہے۔ اگر آپ کے پاس اصل مہارت ہے — چاہے وہ کوڈنگ ہو، ڈیٹا اینالیسز ہو یا اے آئی ایپلیکیشنز — تو آپ کے لیے مواقع موجود ہیں۔

دوسرا: اے آئی صرف چیٹ بوٹس کا کھیل نہیں۔ صحت، زراعت، تعلیم اور مالیاتی خدمات میں اے آئی کے عملی استعمال کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ جو نوجوان ان ڈومینز میں مہارت حاصل کریں گے، وہ آگے ہوں گے۔

تیسرا: برآمدات کا بڑھنا یعنی غیر ملکی زرمبادلہ اور روزگار۔ آئی ٹی برآمدات میں اضافہ براہ راست نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرتا ہے۔

ایک حقیقت پسندانہ نظر بھی ضروری ہے

ساتھ ہی یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ایوارڈز حوصلہ افزائی ہیں، منزل نہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ یہ کامیابیاں کتنے نوجوانوں کو روزگار دیتی ہیں، کتنے اسکولوں میں ڈیجیٹل تعلیم پہنچتی ہے، اور کتنے کسانوں تک ذہین زراعت کے حل رسائی حاصل کرتے ہیں۔ تقریبات میں ٹرافیاں اٹھانا آسان ہے؛ ان ٹرافیوں کو عام آدمی کی زندگی میں بدلنا اصل چیلنج ہے۔

اس کے لیے اداروں کو مسلسل پالیسی سپورٹ، انٹرنیٹ کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری اور تعلیمی نظام میں ڈیجیٹل مہارتوں کے انضمام کی ضرورت ہے — اور نوجوانوں کو شور شرابے سے ہٹ کر اصل مہارت پر توجہ دینی ہوگی۔

نتیجہ

جکارتہ کی یہ شام پاکستان کے ٹیک سفر کا ایک روشن باب ہے۔ گیارہ ایوارڈز، امارات کو بڑھتی برآمدات، اور عالمی اے آئی فورمز میں بڑھتی موجودگی — یہ سب ایک ہی سمت کی طرف اشارہ کرتے ہیں: پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت جاگ رہی ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ صلاحیت ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ اس صلاحیت کو کتنی تیزی سے مواقع میں بدلا جاتا ہے۔

ذرائع