عالمی سطح پر ہلچل: سعودی عرب، یوکرین اور ایران کی تین بڑی خبریں

گزشتہ ہفتے عالمی منظرنامہ تین بڑی اور تشویشناک خبروں کے گرد گھومتا رہا: مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حملے، یوکرین میں ایک ہی ہفتے میں درجنوں ہلاکتیں، اور امریکہ و ایران کے درمیان جاری تناؤ میں ایک نیا سفارتی موڑ۔ یہ تینوں کہانیاں پاکستان کے لیے بھی خاصی اہمیت رکھتی ہیں — چاہے وہ سعودی عرب میں موجود لاکھوں پاکستانی ہوں، عالمی تیل کی قیمتیں ہوں، یا گندم کی تجارت۔ آئیے ان پر ایک ایک کر کے نظر ڈالتے ہیں۔

سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حملے

اس ہفتے کی سب سے اہم خبر مشرق وسطیٰ سے آئی۔ رائٹرز کے مطابق، 8 اکتوبر کو ایران کی حمایت یافتہ حوثی گروپ نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے (کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ) پر حملے کیے۔ سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ان حملوں میں تین افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے۔ ایک سعودی ایئرلائنز کا طیارہ بھی نقصان کا شکار ہوا، اور ہوائی اڈے کے اوپر دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔

ان حملوں کا ایک بڑا اثر یہ ہوا کہ بہت سی ایئرلائنز نے ریاض کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کر دیں۔ یہ وقت بھی نہایت حساس تھا — حملوں سے چند ہی دن بعد ریاض میں دنیا کے تیل کے بڑے سربراہوں کا ایک اہم اجلاس ہونا تھا۔

اس کے ساتھ ہی ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ بھارت کی وزارت خارجہ نے دونوں ہوائی اڈوں پر حملوں کی سخت مذمت کی اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کو "مکمل طور پر ناقابل قبول" قرار دیا۔

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی پہلے سے عروج پر ہے۔ حوثی یمن سے ہیں اور انہیں ایران کا اتحادی سمجھا جاتا ہے، اس لیے ان حملوں کو علاقائی جنگ کے دائرے کو مزید وسیع کرنے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یوکرین میں خونریز ہفتہ: کراماتورسک پر حملہ

مشرقی یوکرین کے شہر کراماتورسک میں 8 اکتوبر کو ایک روسی حملے نے دو بسیں تباہ کر دیں، جس کے نتیجے میں 30 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ پچھلے کئی ہفتوں کے دوران یوکرین میں ہونے والے سب سے خونریز واحد حملوں میں سے ایک ہے۔

یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے اس حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ "جواب کے بغیر نہیں رہے گا"۔ مقامی حکام کی جاری کردہ تصاویر میں بسوں کے جلے ہوئے ڈھانچے، سڑک پر بکھرے ملبے اور لاشیں نظر آئیں۔

رائٹرز کے مطابق صرف دو دن کے دوران یوکرین میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جو اس جنگ میں حالیہ مہینوں کی بدترین خونریزی میں شامل ہے۔ زیلنسکی نے اس موقع پر امریکہ پر بھی تنقید کی اور الزام لگایا کہ واشنگٹن یوکرین کی مدد کے لیے تیار نہیں، جبکہ وہ روس کے ساتھ معاشی تعلقات بڑھانے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔

دوسری جانب، سفارت کاری کی ایک کوشش بھی چل رہی ہے: امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر یوکرینی مذاکرات کاروں اور یورپی حکام سے میامی میں ملاقات کر رہے ہیں، جہاں جنگ کے تعطل کو توڑنے کے لیے "نئے خیالات اور تجاویز" پیش کی جائیں گی۔ ان تجاویز میں ایک جزوی جنگ بندی کا تصور بھی شامل ہے جس کے تحت توانائی کے انفراسٹرکچر اور اناج کی ترسیل پر حملے روکے جائیں گے۔

ایران اور امریکہ: ٹرمپ کا اعلان، پوٹن کی پیشکش

تیسری بڑی خبر واشنگٹن اور تہران کے گرد گھومتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ امریکہ 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ایران کے ساتھ "مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت" جاری ہے اور امریکہ کی ناکہ بندی بدستور قائم رہے گی۔

تاہم، نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی فوج اب بھی جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے آپشنز تیار کر رہی ہے۔ اسی دوران طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن 8 اکتوبر کو اپنے گھر سان ڈیاگو واپس پہنچا۔ یہ جہاز نومبر 2025 سے تعینات تھا اور اس کا مشن ویتنام جنگ کے بعد امریکی بحریہ کی سب سے طویل تعیناتیوں میں سے ایک بنا — دورانِ مشن اسے خوراک کی قلت اور رسد کی مشکلات کا بھی سامنا رہا۔

اسی ہفتے روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ترکمانستان میں ملاقات کے دوران کہا کہ ماسکو ایران کی جنگ ختم کرنے میں مدد کے لیے تیار ہے۔ پوٹن کے الفاظ تھے کہ "آپ ہماری پوزیشن جانتے ہیں، ہم اس صورتحال کے حل میں ہر ممکن مدد کے لیے تیار ہیں۔"

پاکستان کے لیے اس کا مطلب

یہ خبریں صرف دور کے ممالک کی نہیں — ان کے براہ راست اثرات پاکستان پر بھی پڑتے ہیں:

  • سعودی عرب میں پاکستانی: سعودی عرب میں لاکھوں پاکستانی کام کرتے ہیں۔ وہاں کسی بھی عدم استحکام سے ان کی سلامتی اور روزگار دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔
  • تیل کی قیمتیں: مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے سے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہوتا ہے، جس کا براہ راست اثر پاکستان کی معیشت اور مہنگائی پر پڑتا ہے۔
  • خوراک اور گندم: یوکرین کی جنگ نے دنیا بھر میں اناج کی تجارت متاثر کی ہے۔ جزوی جنگ بندی کی تجویز اگر کامیاب ہوئی تو یہ پاکستان سمیت کئی ممالک کے لیے اچھی خبر ہوگی۔
  • علاقائی توازن: امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم ہونا خطے کے تمام ممالک کے مفاد میں ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

آنے والے ہفتے کئی اہم لمحات لا رہے ہیں: میامی میں امریکی اور یوکرینی حکام کی ملاقات، ایران کے ساتھ امریکہ کی جاری بات چیت، اور سعودی عرب میں تیل کے سربراہوں کا اجلاس۔ یہ سب مل کر طے کریں گے کہ یہ کشیدگی کم ہوتی ہے یا مزید بڑھتی ہے۔

ذرائع